نئی دہلی،20؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی) یوپی کے سیتا پور شہر سے لوجہادکے نام پر گرفتار دس ملزمین جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں کومقدمہ سے ڈسچارج کرنے والی عرضداشت پر آج الہ آبادہائیکورٹ کی لکھنؤ بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران سینئر ایڈوکیٹ آئی بی سنگھ نے عدالت سے کہا کہ وہ عدالت میں ملزمین کی غیر قانونی گرفتاری کے تعلق سے دستاویزات داخل کرنا چاہتے ہیں اور وہ عدالت کویہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ مقامی مجسٹریٹ نے ملزمین کو پولس کی تحویل میں د ے کر قانونی غلطی کی ہے ۔
جسٹس راجیو سنہا اور جسٹس راجیو سنگھ کی دو رکنی بینچ کے روبروآج معاملہ سماعت کے لئے پیش ہوا تو گرفتارشدگان کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ آئی بی سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ پولس نے دس بے قصور لوگوں کو حراست میں لیکر ان کی شخصی آزادی ختم کردی ہے اور یہ کہ ان کو پولس کی تحویل میں دیا جانا قانونی طور پر غلط ہے، جس پر دو رکنی بینچ نے ان سے کہا کہ عدالت آئین ہند کے آرٹیکل 226 کے تحت داخل موجودہ پٹیشن پر سماعت کرنے کے حق میں نہیں ہے لہذا آپ کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 482 کے تحت پٹیشن داخل کریں تاکہ عدالت اس پر سماعت کرسکے ۔
ان باتوں کی اطلاع آج ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماءمہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ہے۔ان کے مطابق ایڈوکیٹ آئی بی سنگھ نے بینچ کویہ بھی بتایاکہ گرفتار شدگان شمشاد احمد، رفیق اسماعیل، جنید شاکر علی،محمد عقیل منصوری، اسرائیل ابراہیم، معین الدین ابراہیم، میکائیل ابراہیم، جنت الا براہیم، افسری بانو اسرائیل عثمان بقرعیدی کے خلاف مقدمہ غیر آئینی بنیادوں پر قائم ہوا ہے لہذ ا وہ عدالت کی ہدایت کے مطابق اگلے چند ایام میں موجودہ پٹیشن میں ترمیم کرکے دفعہ 482 کے تحت پٹیشن داخل کردیںگے۔ بینچ نے عرض گذار کو دفعہ 482 کے تحت پٹیشن داخل کرنے کی اجازت دیتے ہوئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی۔ دوران سماعت آج لکھنؤ ہائی کورٹ میں سینئر ایڈوکیٹ آئی بی سنگھ کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ عارف علی اور ایڈوکیٹ فرقان بھی موجود تھے۔